منگل، 13 اکتوبر، 2015

سوپر ہیرو: ایک جائزہ


آج کل کے مقبول افسانوں اور کہانیوں میں  سوپر ہیرو ایک ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو غیر معمولی ذوق اور فطرت کا حامل ہو۔ ایسے اشخاص ملکوتی طاقتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اور زیادہ تر نیک چلن اور شائستگی کے بھی حامل ہوتے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ ایسے اشخاص جدید دور میں اتنے مقبول کیوں ہیں۔ یہاں ہم اِسی گُتھی کو سلجھانے کی کوشش کریں گے۔

سوپر مین کی تخلیق

افسانوں میں سوپر ہیرو کا رجحان کامکس کے ذریعہ عام لوگوں میں مقبول ہونے لگا۔ 1938ء میں امریکی قارئین کو پہلی مرتبہ ایک ایسے سوپر ہیرو سے متعارف کرایا گیا جو اُس زمانے کی تمام اچھائیاں اپنے اندر سمیٹے آیا تھا۔ اپریل 1938ء میں ایکشن کامکس کے صفحات میں سوپر مین کے کردار کا تعرف ہوتا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے کامک کے صفحات سے لپک کر دیگر بچوں کے تخیل میں گھر کر گیا۔

سوپر مین وہ تمام چیزیں کر سکتا تھا جو ایک عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ گولی سے تیز بھاگ سکتا تھا، چلتی ریل گاڑی کو روک سکتا تھا اور چھلانگ لگا کر بڑی سے بڑی عمارتوں کو سر کر سکتا تھا۔ ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ سوپر مین جیسے کردار کو جنم دینا پڑا؟

کسادِ عظیم اور دلچسپ راحت

جس وقت سوپر مین کو تخلیق کیا گیا تب امریکا میں کساد چل رہا تھا۔ لوگ بے گھر اور لاچار تھے۔ اِن کے حوصلوں کو توانا رکھنے کے لئے اِن کو ذہنی آرام درکار تھا۔ کہانیوں اور افسانوں میں یہ لوگ کچھ آرام اور سکون پا ہی لیا کرتے تھے؛ لیکن سوپر مین کے 10 سینٹ کے کامک میں نزول سے تو جیسے اِن لوگوں کو ایک چھپی آواز ہی مل گئی۔ لوگ جو اپنی زندگی میں عام طور پر کرنے سے قاصر تھے، وہ سوپر مین ہفتہ بہ ہفتہ ایکشن کامکس میں کرتا رہتا تھا۔

جب ایکشن کامکس کا پہلا شمارہ چھپا تب کامک اسٹرپ اخباروں میں عام نظارہ تھیں۔ البتہ، چھاپے گئے کامک اسٹرپ اکثر کرداروں کو دور دراز علاقوں اور سیاروں پر دکھایا کرتے تھے۔ سوپر مین اپنی طرز کا پہلا ایسا کامک کردار تھا جو حالی دنیا میں رہتا تھا۔ سوپر مین کی دنیا میں بدعنوان سیاستداں رہتے تھے، گلیوں میں فتنہ پرست غنڈے لوگوں کو پیٹا کرتے تھے اور یہ کامک اِس لحاظ سے اصل دنیا کی عکاسی کیا کرتا تھا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کامک بک سوپر ہیرو تب بھی مقبول تھے اور آج بھی مقبول ہیں۔ کسادی حالات میں زندگی کچھ تھی ہی ایسی کہ لوگ ہر وقت پیٹ پالنے کی کش مکش میں مبتلا رہتے تھے؛ جس کا جہاں زور چلتا تھا وہاں اپنا ڈیرہ گاڑھ لیتے تھے۔ چنانچہ لاقانونیت پھیلتی رہی اور سوپر مین کو ایک ایسے کردار کے طور پر سامنے لایا گیا جو کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا چلا آتا ہے۔